اداریہ جدوجہد ; توہینِ عوام

اس ملک کے حکمرانوں اور سرمایہ دارانہ ریاست کے ہر ادارے کا تقدس عوام پر مسلط ہے اور اس پر بات کرنا بھی توہین کے قوانین کے تحت ایک جرم بن جاتا ہے۔غریب اگر دولت کی عدالت کا حکم نہ مانیں تو توہینِ عدالت لگ جاتی ہے۔اگر فوج اور ریاستی جبر کے اداروں کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو وطن سے غداری کے مرتکب بن جاتے ہیں۔اگر ملائیت کی رجعتیت سے اختلاف کیا جائے تو توہینِ رسالت کے قانون سے مرتد قرار دیے جاتے ہیں۔اگر جمہوریت کے تحت ہونے والے استحصال اور معاشی تشدد کے خلاف اٹھا جائے تو توہینِ جمہوریت ہو جاتی ہے۔غرضیکہ حکمرانوں نے اپنے ظلم و استحصال کو جاری رکھنے کے لئے آئین، قانون، اخلاقیات اور اقتدار کے ایسے جال بچھا رکھے ہیں کہ محنت کش عوام کو سر جھکا کر ہر ظلم ہر اذیت ہر ذلت کو برداشت کرتے رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
اگر یہاں کسی کی توہین کی آزادی ہے تو وہ محنت کش عوام ہیں۔دن رات ہر طرف ان کی توہین لا امتناعی طور پر جاری ہے۔ان کی محنت کو لوٹ کر ان کی اجرت کو لوٹ کر، ان کی توہین اس معاشرے کا شیوہ ہے۔محنت کرنیو الے ہاتھ جو اس سماج کو چلاتے ہیں،بلندوبالا عمارات کو تعمیر کرتے ہیں،فیکٹریوں میں پیداوار کرتے ہیں،ریل چلاتے ہیں،اس ملک کا ہر پہیہ گھماتے ہیں۔ جن کی محنت کے بغیر کوئی بلب نہیں جل سکتا کوئی فون کی گھنٹی نہیں بج سکتی ۔جن کی محنت سے ہر معاشرہ چلتا ہے۔انہی آہنی ہاتھوں کو حکمران سرکاری اور نجی بھیک کے آگے پھیلانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیا یہ توہین نہیں ہے؟ جس معاشرے میں روز 1132 بچے بھوک سے مر جاتے ہیں، ہرسال5 لاکھ خواتین زچگی کے دوران نئی زندگی کو جنم دیتے دیتے لاعلاجی سے اپنی زندگی سے محروم ہو جاتی ہیں،جہاں ہرروز 38000 افراد غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر رہے ہیں! جہاں لاکھوں بزرگ اپنے وقت سے پہلے علاج کے فقدان سے چل بستے ہیں! جہاں بے روزگاری کے شکار اس کی ذلت کی پراگندگی میں خود کشیاں کر بیٹھتے ہیں یا پھر جرائم ،دہشت گردی اور منشیات کے عفریت کا نوالہ بن جاتے ہیں۔ جہاں دوشیزائیں اپنی عصمتیں خود لٹوانے کے لئے مجبور ہیں۔جہاں ماؤں بہنوں کے جسموں کو دولت والے گد ھ نو چتے ہیں۔
یہ نظام اور اس کا سماج کیا قابلِ توہین اور قابلِ حقارت نہیں ہے؟لیکن یہاں کے عوام کی وسیع تر اکثریت کی توہین کو کون پوچھتا ہے۔ دولت کی ہوس پر مبنی اخلاقیات ،اقدار اور ریت ورواج میں غرق یہ معاشرہ اندر سے سلگ رہا ہے !سسک رہا ہے!غربت ،مہنگائی ،بے روزگاری کی ذلت بجلی گیس پانی کی قلت کی اذیت ،تعلیم، علاج،ٹرانسپورٹ ،رہائش،نکاس کے فقدان کے عذابوں کے خلاف جو لاوا پک رہا ہے، وہ جو آتش فشاں پھٹے گا وہ ہر اس توہین،اس ظلم وجبر اور اس جکڑ کو توڑ کر مٹا کرہی دم لے گا۔صدیوں سے نسلوں کی توہین کا انتقام محنت کشوں اور نوجوانوں نے اس نظام، اس کے حاکموں، اس کے دلالوں، اس کے حواریوں، اس کے پرچار کرنے والوں، اس کے جوازفراہم کرنے والوں اور توہمات اور عوام کے اعتقادی جذبات سے کھلواڑ کرنے والوں کہ جنہوں نے ان کو اس محکومیت کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا ہے، سے لینا ہے۔۔۔۔
ان سب سے ایک انتقام لیا جائے گا۔یہ انتقام مثبت اور خوش آئند انجام کو صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی پہنچ سکتا ہے۔ جہاں پھر کسی غریب اور کمزور کی تضحیک نہیں ہو گی۔ جہاں انصاف اونچے مندروں کے لٹیرے پجاری نہیں کریں گے بلکہ عوام کی پنچائتیں اور ٹربیونل کریں گے۔جہاں ریاست اس میں رہنے والوں پر جبر نہیں کرے گی بلکہ محنت کشوں کی اشتراکی ریاست ہو گی ۔جہاں غدار لوٹنے والے نہ ہوں گے۔جہاں فوجی جبر نہیں ہو گا بلکہ ہر قوم کے پاس رضا کارانہ اشتراک اور قومی آزادی کا حق ہو گا ۔ جہاں تعلیم، علاج، روزگار، بجلی اور دوسری سہولیات کی فراہمی انسان کی مراعات نہیں ہوں گی، بلکہ عوام کا حق ہو گا ۔قومی جنگوں کی بجائے عوامی فوج طبقاتی جنگ کو پھیلا کر پورے خطے میں انقلاب کے پرچم بلند کرے گی ۔یہ انسانوں کو انسانوں سے نفرتوں کی بجائے عالمی بھائی چارے کی نوید دے گا۔اس کا آج کے عہد میں ممکن ہونا ہمیں ساری دنیا میں ابھرنے والی تحریکیں باربار دکھا رہی ہیں۔ ایک بار اس انقلابی لہر کے تاریخ کے میدان میں آمد کی دیر ہے پھر۔۔۔
کس کے روکے رکا ہے سویرا !!!

2 Comments

  1. ghufran ahad says:

    ONE OF THE MOST IMPORTANT TASKS OF TODAY IS TO DEVELOP THE INDEPENDENT INITIATIVE OF THE WORKERS AND OF ALL THE WORKING AND EXPLOITED PEOPLE GENERALLY. DEVELOP IT AS WIDELY AS POSSIBLE IN CREATIVE ORGANIZATIONAL WORK. AT ALL COSTS WE MUST BREAK THE OLD, ABSURD ,SAVAGE, DESPICABLE AND DISGUSTING PREJUDICE THAT ONLY THE SO-CALLED UPPER CLASSES,ONLY THE RICH,ARE CAPABLE OF ADMINISTERING THE STATE!

  2. Pingback: شمارہ نمبر 1: 16 تا 31جنوری 2012ء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*